قصہ فور سٹار ، یعنی قصہ چھار درویش پہلے درویش کی کہانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سہاروی سہرودی خود کو سکندر اعظم کے کے ہاتھوں اجڑے شھر سہاروی سے منسوب کرتے ہیں ، اس اجڑی دیار کی محبت و عشق میں تصوف کی طرف مائیل ہوئے ۔ان کا سکندر اعظم سے کیا ، سکندر کے نام سے بھی خدا واسطے کا بیر ہے ، ان کی نماز میں سکندر کے شھر سہارہ اجاڑنے کی جرم کی ، بد دعا کا اک خصوصی بلیٹن بصورت وضیفہ بد دعا شامل ہے ، جو ان کو ان کے مرشد نے خرقے کے ساتھ ہی بخشا تھا ۔
واضح ہو کہ اس سہارہ سہروردی کا سہاراہ ہسپتال سے کوئی تعلق نہیں اس لئے مفت خورے سفارش کے لئے رجوع مت کریں ۔
انہوں نے خود ہی سہاروی کے نام سے وضائیف کی اک کتاب اپنے ہاتھ سے لکھی ہے ، جس کے صفحہ اول پر انہوں نے اپنا بطور مصنف لکھا ہے ، مگر اکثر ہی اپنا لکھا ہم سے پوچھ کرپڑھتے ہیں ۔ بڑا ہی ذہین اور ٹیلینٹیڈ شخص ہے ۔
12 خانے بنا کر تعویزکس طرح بنایا اور لکھا جاتاہے ، یہ لوٹ مار کا فن ہم نے ان سے ہی چھپ چھپ کر سیکھا کہ ظالم اپنے ، ڈکھوسلےعملیات کسی کو بھی نہیں بتاتے ۔ ہم تعویز لکھ کر سوچتے ہیں کہ اب اس فراڈ کے کیا اور کتنے پیسے لیں ، مگرحضرت سہاروی نے اک چھکا بنا رکھا ہے ، تعویز لکھ کر مریض کے سامنے ہی چھکا پھینکتے ہیں اور حاصل چھکا کو 20 سےضرب دے کر پیسے وصول کر لیتے ہیں ۔ مریض اسکو اللہ کا حکم سمجھ کر بڑی خوشی سے پیسے اس بکس میں ڈال دیتا ہے ، جس پر داتا گنج بخش کے علاوہ مینار، پا پاکستان اور فیصل مسجد کی تصویر بھی کنندہ ہے ،حضرت سہاروی پیسوں کو ہاتھ بلکل نہیں لگاتے ، کہ بکس کی چابی ان کی بیگم کے پاس ہوتی ہے ۔
جب زردی اور بریانی کی پلیٹ تناول کرتے ہوئے ہوئے ، شیخ نے ان کو قلیلاالطعام کا حکم دیا ، تو انہوں نے سختی سے بیگم سے شام کا کھانا نہ پکوانے کا کہا ، اور اب شام ڈھلتے ہی با ادائیگی سنت کسی مریض کی عیادت کے لئے اسکے گھر پہنچ جاتے ہیں ، اگر کھانا لیٹ ہے تو دم تعویز کے ساتھ اس وقت تک مریض کا سر بھی دباتے ہیں ، تا انکہ کھانا تیار ہو جائے ،یعنی ہم خرما ہم ثواب ، دونوں کما کر واپس ا جاتے ہیں اور اپنے شیخ کے اگے حلف لے کر کہتے ہیں کہ حضرت حرام ہے جو مدت سے بیگم کے ہاتھ سے شام کا کھانا نصیب ہو ۔
ریق سینائی
اگلے درویش افلاطون کی کہانی کے لئے انتظار فرائیں
09:49
0 comments:
Post a Comment
اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔