جس
ملک کے حکمران بندگان خدا کے بجائے گھوڑوں سے پیار کریں اور انسانوں کے
بجائے کتوں پر اعتبار کریں ، اس سے ان حکمرانوں کی ذہنیت کا اندازہ لگا نے
کے لئے کوئی مجھ جیسے افلاطونی عقل کی ضرورت نہیں ۔ ایسے میں پھر عوام کی
حیثت چوہوں اور بلوں سے زیادہ نہیں رہتی ، ارشاد سرکار ہے کہ جینا چاہیں
تو بڑے شوق سے جیئں انہیں گلو بٹی کے سوا اور کچھ بھی تو نہیں کہا جائیگا ،
ورنہ بھاڑ میں جائیں ، ہماری بلا سے ۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کتوں او گھوڑوں کےسلنتریوں کے سدھرنے کے چانس عام طور پر بلکل نہیں ہوتے ، کہ اک نفسیاتی مرض ہے جس میں انسان کی خصلتیں ان حیوانوں کی فطرت میں ڈھل جاتی ہے ، مگر مریض یہ بات مان کر نہیں دیتے ، کہ مریض جو ہوئے بے چارے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ وہ انسانیت کی صفات اعلی سے محروم ہو گئے ہیں ۔
ہاں اگر عوام چاہیں تو اسکا علاج کر سکتے ہیں ۔۔۔
وہ اسطرح کہ یہ عارضی طور پر ہی انہی کی طرح ہنہنانے ، بھوکنے ، کاٹنے پراجائیں ، تو عوامی رد عمل کے اس ایڈوانس حیوانی عمل کے خوف سے یا پھر ہم چوں ڈنگرے دیگر نیست کی حسد سے یہ شاید واپسی کا سفر شروع کر دیں ۔
بصورت دیگر اپ کو گلو بٹی حکمرانوں کی اس کتا اور گھوڑا کی پیار کی لیلا ، مجنوں کی کہانی سے شکایت کا حق نہیں دیا جا سکتا ۔
رفیق سینائی
ان کتوں او گھوڑوں کےسلنتریوں کے سدھرنے کے چانس عام طور پر بلکل نہیں ہوتے ، کہ اک نفسیاتی مرض ہے جس میں انسان کی خصلتیں ان حیوانوں کی فطرت میں ڈھل جاتی ہے ، مگر مریض یہ بات مان کر نہیں دیتے ، کہ مریض جو ہوئے بے چارے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ وہ انسانیت کی صفات اعلی سے محروم ہو گئے ہیں ۔
ہاں اگر عوام چاہیں تو اسکا علاج کر سکتے ہیں ۔۔۔
وہ اسطرح کہ یہ عارضی طور پر ہی انہی کی طرح ہنہنانے ، بھوکنے ، کاٹنے پراجائیں ، تو عوامی رد عمل کے اس ایڈوانس حیوانی عمل کے خوف سے یا پھر ہم چوں ڈنگرے دیگر نیست کی حسد سے یہ شاید واپسی کا سفر شروع کر دیں ۔
بصورت دیگر اپ کو گلو بٹی حکمرانوں کی اس کتا اور گھوڑا کی پیار کی لیلا ، مجنوں کی کہانی سے شکایت کا حق نہیں دیا جا سکتا ۔
رفیق سینائی
0 comments:
Post a Comment
اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔