Thursday, 10 July 2014

00:34

اک بے نام سی اداسی ہے دل و جاں پہ محیط

پتہ نہیں اج پر اداسی ، پژمردگی ، مایوسی کے سیاہ گھمبیر بادل کیوں چھائے ہوئے ہیں ، میرے دکھ درد کی ساری ہی حسیں جسے مر چکی ہیں ، میری تمانئیں ، ازروئیں ، مسرتیں کوئی شئے بھی تو جاگ کر نہیں دے رہی ۔
اداسی ، پژمردگی ویسے تو اک نفسیاتی مرض ہے ، جس میں دماغ کے نیرو ٹرانس میٹرز کی کچھ سیکریشنز کم یا زیادہ ہو جاتی ہیں ، میری اداسی کاسبب بھی شاید یہی ہو ، مگر اس کاز اینڈ ایفیکٹ ک یدنیا میں کسی بھی ایفیکٹ کا بغیر کاز کے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ سو مجھے دکھ یہی ہے کہ مجھے خبر ہی نہیں یہ ایسا کیوں ہے ۔
میں نے کئی بار کچھ لکھنے کی کوشش کی ، کہ کسی طرح خود کو اس فریب سے بہلاوہ دے سکوں ، مگر اس مصبت کی گھڑی میں الفاط و حروف جو میرے بے دام غلام ہیں انہوں نے بھی میری غلامی سے صاف انکار کر کے میرا ساتھ چھوڑ دیا ، میںصبح سے ابھی تک درجنوں کاغذ لکھ لکھ کر پھاڑ چکا ہوں ، میرا ڈسٹ بین پرزہ پرزہ کاغذوں کے ٹکڑوں سے بھرا میرا منہ چڑا رہا ہے ۔ میں نے بہت چاہا کہ میں اپنی اس بے نام اداسی اور پژمردگی کو شاید اسطرح بہلا پھسلا کر مطمین کر سکوں گا ، مگر میں بری طرح ناکام رہا ۔ کہ اداسی اور پژمردگی ناکامی ہی کا دوسرانام ہے

اک بے نام سی اداسی ہے دل و جاں پہ محیط
رفیق سینائی

0 comments:

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔