وحی کی ہدایات کو پس پشت ڈال کر صرف علم و عقل کوجو محدود ماحول میں محدود تجربہ سے حاصل ہوتا ہے اپنے اعمال کی بنیاد بنانا سیکولر ازم ہے اسلام اسی سکولرازم کی خلاف ہے ۔سیکولرازم کے تحت زندگی گزارنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو دوسرے حیوانوں کی طرح ، اک حیوان تصور کیا جائے۔ جو اپنی حیوانی زندگی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے ہر وقت اور ہمہ تن مصروف تگ و تاز رہے ۔ قران کے بیان کردہ مستقل اصول و اقدار اسکے لئے کچھ بھی معنی نہیں رکھتے ۔ صرف حیوانی تقاضوں کی تسکین خواہ کیسے بھونڈے طریقے سے کی جائےاور خواہ عقل و فکر و تدبر سے کی جائے یہ زندکی سیکولرازم کہلاتی ہے
سکولرازم کا مطلب لادینیت ہوگا ،اس ریاست کو لادین ریاست کہا جائے گا اور اس قسم کی سیاست لادین سیاست ٹھرے گی چاہے اکا نام کچھ بھی رکھ دیا جائے ۔
اقبال علیہ رحمت کا شعر اس کی خوب ترجمانی کرتا ہے ۔
جلال بادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
صابر صدیقی
ہوم
»
»بلا موضوع
» سیکولرزم
Friday, 11 July 2014
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
0 comments:
Post a Comment
اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔