کیا چوھدری نثار کا ،، علی ،، ابھی زندہ ہے
پی پی ہو کہ مسلم لیگ نون یا کوئی بھی سیاسی ، سماجی جماعت جب اسکے سربراہ خادم سے امر بن جاتے ہیں ، تو وہاں خوشامد گروں کی اک فوج ظفر موج کی مدبر ارشاد ، مدبر ارشاد سے جماعت کے کے حاملین فکر و نظر دم توڑ دیتے ہیں ۔
بھٹو سے لیکر بےنظیر ، اور زرداری تک پی پی کے پرانے وفادار ساتھی سب اسی ذہنیت کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں ۔ پرویز مشرف کے دور ابتلا کے اک نون لیگ کے جاں نثار اقبال جھگڑا کافی عرصہ ہوئے انہی خوشامد گروں کے ہاتھوں ، تا دم مرگ طویل رخصت پر چلے گئے ہیں ، اب ایسا لگتا ہے کہ اک ان ملا دوپیازوں کا اگلا حدف چوھدری نثار ہیں ، کہ بھی کچھ زیادہ ہی سمارٹ بننے کی کو شش میں لگے ہیں ۔ تو انکی بھی طویل رخصتی کے متعلق میاں جی کے خوشامدی داتا دربار کے بھنگیوں اور چرسیوں سے د م درود اور تعویز ودھاگہ باندھنے کا کہہ ائے ، کہ نون لیگ کاروباری جھمیلوں کے مارے بڑے میاں ، اب ذہنی طور پر مفلوج ، مکمل طور پر ہنج پیاروں کے گروپ خاص برے کریٹس توقیر شاہ اور فواد حسین جیسے ، کے رحم و کرم پر ہیں ۔
نون لیگ بھی وہی پی پی کی طرح میاں منشا کے منظورنظر ، افتخار ارسلان جسے بچونگڑون کی ، نئی نئی دریافتوں پر بغلیں بجا رہی ہے ۔ ارسلان افتخار جیسے خود ساختہ سیاسدان کو عمران خان کے مقابلے میں میدان میں اتار کر میاں جی اپنی ہی جاتی محل کی بنیادیں ہلانے کے درپے ہیں ۔
چوھدری نثار کے بعد نون لیگ کو اگر خوشامد لیگ کہا جائے تو یہ زیاد منا نسب ، حسب حال نام ہوگا ۔
چوھدری نثار کا میاں شھباز کی مننتوں بھرا رائیونڈی صلح کا ڈراپ سین بہت جلد ہونے والا ہے ، کہ یہ اونٹ کسی بھی کروٹ بھیٹنے والا نہیں کہ بڑے میاں جی سیاست کو بھی اتفاق فاونڈری کی امریت کی طرح چلانا چاہتے ہیں جبکہ تجارت ۔ ساہوکاری ، بنیا پن کی چور بازری اور سیاست کی خدمت خلق ، بندہ پروری میں وہی فرق ہے جو گلو بٹ اور رضیہ بٹ میں ہے ۔
چوھدری نثار کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نثار میں تیرے جاتی محل کے اے میاں جی ! ۔۔۔۔۔۔۔۔ کے زندہ ،، علی ،، کا اب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چلی ہے رسم کے کوئی نہ سر اٹھا کر چلے سے ۔۔۔۔۔ کی میاں جی کی امریت کے جبر و غلامی سے نبھاہ اب بہت ہی مشکل ہے ۔
رفیق سینائی
0 comments:
Post a Comment
اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔